30 ستمبر 2026 - 17:19
بحرین کے وزیر داخلہ کا گرفتار علما پر ولایت فقیہ کے الزام کا سلسلہ پھر شروع

بحرین کے وزیر داخلہ راشد بن عبداللہ نے ایک بار پھر زیر حراست علما پر ’’ولایت فقیہ‘‘ سے متعلق الزامات عائد کیے ہیں۔ بحرینی خبر رساں ادارے ’’مرآة البحرین‘‘ نے اسے گرفتار علما کے خلاف حکومت کی پالیسی میں مزید شدت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ علما غلط اور ظالمانہ الزامات کے تحت جیلوں میں قید ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، راشد بن عبداللہ نے ایک بار پھر ان علما کے خلاف الزامات عائد کرکے اپنے مؤقف میں شدت پیدا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ناحق اور ظالمانہ طور پر جیلوں میں قید ہیں۔

بحرینی میڈیا ادارے ’’مرآة البحرین‘‘ نے وزیر داخلہ کے تازہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا: ’’ولی فقیہ کے وکلا نے بحرین کے شیعوں پر غلبہ حاصل کرنے اور سرکاری اداروں اور پارلیمنٹ میں رسوخ پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔‘‘

مرآة البحرین نے مزید کہا کہ راشد بن عبداللہ نے ایران کے خلاف جنگ اور اس میں بحرینی حکومت کی شمولیت کے بعد پیدا ہونے والی پیچیدہ صورت حال کا حل تلاش کرنے کے بجائے ایک اشتعال انگیز اور تفرقہ انگیز پالیسی اختیار کی ہے، جسے بظاہر حکومت آخر تک جاری رکھنا چاہتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گرفتار علما کے ساتھ کھلا تصادم کسی حل کی طرف نہیں لے جاتا، تاہم بحرینی حکومت ان کے خلاف اپنے اقدامات پر بضد ہے اور ان گرفتاریوں کے لیے ہر قسم کے قانونی اور سکیورٹی جواز کو مسترد کیے جانے کے باوجود اپنی ظالمانہ پالیسی جاری رکھے ہوئے ہے۔

اس میڈیا ادارے نے لکھا کہ راشد بن عبداللہ کے حالیہ بعض بیانات کو انتہائی منفی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔ بعض حلقوں کا خیال ہے کہ بہت سخت سزائیں سنائے جانے کے امکان سے متعلق اطلاعات کے پیش نظر گرفتار علما کے مقدمات خطرناک مراحل میں داخل ہو سکتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اب معاملہ واضح ہو چکا ہے؛ بحرین میں حقیقی دینی عقائد کے خلاف ایک فرقہ وارانہ اور ناپسندیدہ جنگ جاری ہے۔ شیعوں کی جائز اسلامی سرگرمیوں کو جرم قرار دینا اس وزارت کی بنیادی پالیسی بن چکی ہے، جس کے فیصلے بحرین کے بادشاہ کی ہدایت کے تحت کیے جاتے ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ وزیر داخلہ ایک بار پھر وہی پیغام دینا چاہتے ہیں جس کے لیے بحرینی حکومت کے پاس کوئی اور طریقہ نہیں۔ وہ معاشرے میں خوف پیدا کرنا اور لوگوں کو ڈرانا چاہتے ہیں تاکہ انہیں اپنے عقائد سے دور کیا جا سکے۔ ان کا ایک اور مقصد لوگوں کو ولایت کے عقیدے سے دور کرنا اور اس کے اظہار کو روکنا ہے، یہاں تک کہ ’’ولایت فقیہ‘‘ کا نام کسی محفل، دینی درس، مسجد، حسینیہ، حتیٰ کہ مجالس عزا اور نوحہ خوانی میں بھی سنائی نہ دے۔

مرآة البحرین نے تصریح کی کہ جب راشد بن عبداللہ کی باتیں سنتے ہیں تو صرف فتنہ اور معاشرتی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے اور عوام کے مختلف طبقات کے درمیان موجود تنوع کو متاثر کرنے کی علامت نظر آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، شیعہ دینداری سے دوری کو مستحکم کرنے اور اس کی جگہ ایسی شیعیت لانے کی کوشش جاری ہے جس کی شریعت، شناخت اور عقائد پر حکومت کا غلبہ ہو۔

رپورٹ کے آخر میں کہا گیا ہے کہ علما کے خلاف کشیدگی، تعاقب اور گرفتاریوں میں حالیہ اضافے کے بعد سامنے آنے والے واقعات بحرین کے عام شیعوں کی جانب سے اس پالیسی کو مسترد کیے جانے اور ان کی ناراضی کی شدت کو ظاہر کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، شیعہ عوام علما کے مقام اور ان کی دینی سرگرمیوں کو ایک ایسی سرخ لکیر سمجھتے ہیں جس پر کسی بھی دھمکی اور کسی بھی سطح پر سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

رپورٹ میں علما کے حوالے سے کہا گیا ہے: ’’تو ہم سب کو جیل میں ڈال دو، ہم سب کو گرفتار کر لو، ہم اپنے دین اور عقیدے پر سودا نہیں کریں گے۔‘‘

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha